نئی دہلی:06/جولائی(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے اجودھیا معاملے سے متعلق عرضیوں کی سماعت 13جولائی تک کے لئے ملتوی کردی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے جمعہ کو عرضی گزاروں میں سے ایک کی طر ف سے پیش سینئر وکیل راجیو دھون کے دلائل سننے کے بعد اگلی سماعت13جولائی تک کے لئے ملتوی کردی۔ جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر بنچ کے دیگر اراکین ہیں۔مسٹر دھون نے بنچ کے سامنے دلیل دی کہ بابری مسجد کسی مذاق کے مقصد سے نہیں بنائی گئی تھی، بلکہ سینکڑوں لوگ یہاں روزانہ نماز ادا کرتے تھے۔ کیا اسے مذہب کا ضروری حصہ نہیں مانا جانا چاہئے۔ مسٹر دھون کی یہ دلیل ہندو تنظیموں کی اس دلیل کے جواب کے طور پر دی تھی، جس میں انہوں نے گذشتہ 17مئی کو کہا تھا کہ مسجد کے لئے کوئی مخصوص جگہ اور مقام کی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن رام جنم بھومی کی مذہبی اہمیت ہے اور ہندووں کے لئے اس کی اہمیت ہے۔ ایسے میں جنم بھومی کو کہیں اور شفٹ نہیں کیا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ 2010 میں اترپردیش ہائی کورٹ کے تین ججوں کے بنچ نے دو ایک کی اکثریت سے اجودھیا کی متنازع زمین کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا کے درمیان برابر برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی خصوصی بنچ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر چودہ عرضیوں کی سماعت کررہی ہے۔